باقر بھی تھے شریک شہنشاہ تشنہ لب
صحرائے کربلا میں اٹھاتے رہے تعب
کم عمر تھے تو کیا ہوا مجبور تھے یہ کب
زور جوان دکھاتے جو ہوتی رضاۓ رب ہمجولی ان کے کیسے لڑے اس لڑائی میں
بچوں کی دھاک بندھ گئی تیغ آزمائی میں منظور حق کو رکنِ امامت کا تھا قیام
دفتر میں اوصیا کے رقم ہو چکا تھا نام تا حکمِ ذوالجلال یہ ہوں پانچویں امام
قائم رہے شریعتِ پیغمبرِ انام
دیں امتحانِ صبر بزرگوں کی شان سے
حجّت تمام کر کے سدھاریں جہان سے
حمدِ خدا میں کٹتے رہے امتحاں کے دن
شاکر ہوا خطابِ شہنشاہ انس و جِن
قائم تھے حلم شاہ کے سب کورک ومن ہر رنج میں رہا دل آگاہ مطمئن کینہ بھرا ہوا تھا جو قلب ہشام میں تکلیف دی بُلا کے مدینے سے شام میں پابند حکمِ حاکم جابر تھے بے ادب
قیمت سے کوئی چیز نہ دیتے تھے ہے غضب
فاقہ سے تین روز رہا سرور عرب
جس طرح کربلا میں اٹھایا تھا یہ تعب
گزرے تھے واں بھی اتنے ہی دن بھوک پیاس میں
دل تھا ہجوم حسرت و اندوہ و یاس میں
باقر کے واسطے مرض الموت تھا وہی ایذاۓ سخت کُل کے مددگار نے سہی
طاقت نہ اٹھنے کی شہ دیجاہ میں رہی
بخشا پسر کو آپ نے روز یداللّٰہی
صدمہ عجب تھا جعفر صادق کی جان پر
شہ نے کہا خدا ہو نگہبان نہ ہو اُداس رکھا ہوا ہے جو مرے احرام کا لباس
دینا کفن اسی سے مجھے میرے حق شناس نہلانا اپنے ہاتھ سے اے مہ جبیں ہمیں پڑھ کر نماز قبر میں رکھنا تمہیں ہمیں
آواز دے رہا ہے جگر گوشہ حُسین
آجا آج خلد میں ہے میرے نورعین یہ کہتے کہتے چپ ہوئے سلطان مشرقین
لختِ جگہ نے آہ کی آیا نہ دل کا چین
دیکھا کہ حال غیر ہے شاہِ انام کا
قبلہ کی سمت کر دیا چہرہ امام کا تھا جن کے سامنے رُخ فرزند مہ لقا
آنکھیں وہ بند ہوگئیں اندھیر ہوگیا
جو دل رُبا سے کہ رہے تھے دل کا مدعا
خاموش وہ زباں اے وامصیبتا کیا تھا کرب جس میں بسر تین دن ہوئے
بیجان چوتھے روز شہِ انس و جان ہوئے