Kanz e Aza

اہلِ حرم کا مونس و غم خوار مر گیا

A marsiya. Lyrics in Urdu.

اہلِ حرم کا مونس و غم خوار مر گیا وہ زورِ بازوئے شہ ابرار مر گیا لشکر ہوا تمام علمدار مر گیا کربو بلا کا حیدرِ کرار مر گیا

صرفِ بُکا حرم ہیں شہہ مشرقین کے روتے ہیں کوزے پھینک کے بچے حسین کے مارا گیا ترائی پہ حیدر کا لاڈلا

شانوں سے ہائے دستِ مبارک ہوئے جدا پیوست ایک آنکھ میں تیرِ جفا ہوا

سرگرزِ آہنی سے ہے شق وامصیبتا ایسی کسی شھید پہ گزری جفا نہیں گرتے ہیں زیں سے ہاتھوں کا بھی آسرا نہیں کیوں رو رہے ہو ائے پسرِ شاہ مشرقین کیا گذری قلبِ زار پہ حیدر کے نور عین

کچھ تو کہو زبان سے دل کو نہیں ہے چین

آیا ہے دیکھو لاش پہ بھائی تیرا حسین اس بیکسی میں جاتے ہو مُنہ اپنا موڑ کے

غربت میں کس پہ جاتے ہو بھائی کو چھوڑ کے

پھر رو کے بولے شاہ کے قدموں پہ رکھ کے سر ہے عرض یہ غلام کی یا سیدالبشر

شرمندہ ہے سکینہ سے عباسِ نامور لاشہ ہمارا لے کے نہ جائیں خیام پر

خادم کو رہنے دیجے آ قا لبِ فرات مسکن رہے غلام کا مولا لبِ فرات یہ کہتے تھے حسین سے عباسِ نیک نام ہچکی اک آئی غش نے دیا موت کا پیام

آنکھیں جُھکا کے شہ کو کیا آخری سلام ہاتھوں سے دل کو تھام لیے سرورِ انام

غربت میں شاہِ دین کو بے آس کر گئے تنہا حسین ہو گئے عباس مر گئے

سر اُٹھ کے پیٹتے تھے شہنشاہِ دو جہاں

شہ کو سنبھالتے تھے علی اکبرِ جواں کہتے تھے رو کے بیٹے سے یہ سرورِ زماں

عباس ہم کو چھوڑ گئے ائے پدر کی جاں کس سے کہے جو گذرا ہے صدمہ حسین پر

درد و الم کا آسماں ٹوٹا حسین پر ائے ابنِ فاطمہ کے فدائی اٹھو اٹھو کیسی تمہیں یہ نیند ہے آیٔ اُٹھو اٹھو کیوں تم نے کی پسند ترائی اُٹھو اُٹھو

بھائ اُٹھو اُٹھو میرے بھائی اُٹھو اُٹھو لبیک کہکے آتے نہیں ابنِ بوتراب

آواز پر حسین کی دیتے نہیں جواب

بھائی بتاو خیمے میں جا کر میں کیا کہوں

بے چین ہونگی آلِ پیمبر میں کیا کہوں ننھی سکینہ سے ائے برادر میں کیا کہوں پوچھے مجھے جو زینبِ مضطر میں کیا کہوں کیسے کہوں ترائی پہ شبیر لُٹ گیا

عباس کا حسین سے ساتھ آج چھٹ گیا یہ کہکے نہر سے چلے روتے ہوئے امام اکبر نے مشک اور علم کو لیا تھا تھام پہونچے درِ خیام پہ جس دم شہ انام

بھائی سے لپٹی دوڑ کے زینب فلک مقام

کہتی تھی کیوں علم ہے یہ خوں میں بھرا ہوا

بتلاو بھائی جاں میرا عباس کیا ہوا

زینب سے تب یہ کہنے لگے شاہِ کربلا ہے ہے علی کے شیر کے بازو ہوئے جُدا تیرِ ستم سے مشک چھدی پانی بہہ گیا مارا گیا فرات پہ سقہ سکینہ کا

زينب وہ میرا قوتِ بازو گذر گیا

عباس قتل کیا ہوئے شبیر مر گیا